لکھنؤ، 14؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)یکساں سول کوڈکو لے کر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مرکزی حکومت کے درمیان جاری قانونی جنگ کے درمیان سوشلسٹ پارٹی(ایس پی)سربراہ ملائم سنگھ یادو نے آج کہا کہ اس مسئلے کومذہبی رہنماؤں پرچھوڑ دیاجاناچاہیے۔یادو نے یہاں پارٹی ریاستی ہیڈکوارٹر پر منعقد ہ پریس کانفرنس میں یکساں سول کوڈ کو لے کر جاری بحث کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ابھی وہ اس مسئلے پر زیادہ کچھ نہیں کہیں گے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اسے لے کر کوئی تنازع نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے معاملے کو مذہبی رہنماؤں پر چھوڑ دینا چاہیے،ملک اور انسانیت کے سوال پر سب کو متحد رہنا چاہیے۔ایس پی سربراہ نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا مسئلہ ماضی میں بھی اچھالا جاتا رہا ہے۔انہوں نے ایک یادداشت سناتے ہوئے کہا کہ ایک بار سماج وادی رہنما رام منوہر لوہیا کا پونے کے قریب ایک شہر میں پروگرام تھا،تب وہاں اسی مسئلے کو لے کر ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان کافی کشیدگی تھیطبڑی تعداد میں لوگ لوہیا کو سننے آئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ لوہیا نے اپنی تقریرمیں کہا تھا کہ قرآن، گیتا اور رامائن تمام میں انسانیت کا سبق سکھایا گیا ہے،تمام لوگ اپنے اپنے مذاہب کی رسی مضبوطی سے تھام کر چلیں اور مل جل کر رہیں۔لوہیا کی باتوں کو دونوں فرقوں پر ایسا گہرا اثر ہوا کہ اگلی صبح تک کشیدگی بالکل ختم ہو گئی۔واضح رہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور ملک کی کئی دوسری بڑی مسلم تنظیموں نے کل یکساں سول کوڈ پرلاء کمیشن کی سوالنامے کابائیکاٹ کرتے ہوئے مرکز کی بی جے پی کی قیادت والی حکومت پر ان کی کمیونٹی کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام لگایاتھا۔بورڈ نے اس مسئلے پر سے ملک میں ایک دستخطی مہم بھی شروع کی ہے۔